پیرس: یورپ کے متعدد ممالک اس وقت شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کی لپیٹ میں ہیں، جہاں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ فرانس میں گرمی سے متعلق مختلف واقعات میں کم از کم 18 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ دو کم سن بچوں کی المناک موت نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق جنوبی علاقے کارپانتراس میں دو اور چار سال کے دو بچے ایک کھڑی گاڑی کے اندر بے ہوش حالت میں پائے گئے۔ امدادی ٹیموں نے انہیں بچانے کی کوشش کی، تاہم دونوں جانبر نہ ہو سکے۔
شدید گرمی نے فرانس کے کئی شہروں میں درجہ حرارت کے پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ بوردو میں پارہ 41.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ پواتیے میں درجہ حرارت 41.2 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، جو کئی دہائیوں کا نیا ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے مطابق بوردو کے علاقے میں 80 سے 95 سال کی عمر کے تین بزرگ شہری بھی گرمی سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے۔ مقامی عہدیدار صوفی بروکا نے بتایا کہ یہ اموات گزشتہ چند روز کے دوران رپورٹ ہوئیں۔
دوسری جانب شدید گرمی کے دوران نہانے اور تیراکی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں فرانس میں 13 افراد ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ سول سیفٹی کے ترجمان جیروم بولانژے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف محفوظ اور نگرانی والے مقامات پر ہی نہانے کو ترجیح دیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق یورپ میں جاری یہ غیر معمولی گرمی ایک مخصوص موسمی نظام "اومیگا بلاک" کے باعث پیدا ہوئی ہے، جس میں گرم ہوا ایک وسیع علاقے میں طویل عرصے تک پھنس جاتی ہے اور ٹھنڈی ہوائیں اس تک نہیں پہنچ پاتیں۔
لندن کے امپیریل کالج سے وابستہ محقق کلیئر بارنز کے مطابق شمالی افریقہ اور صحرائے صحارا سے آنے والی گرم ہوائیں یورپ میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کا سبب بن رہی ہیں، جبکہ اس موسمی نظام کی سست رفتار صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
برطانیہ میں بھی موسمیاتی اداروں نے شدید گرمی کی پیشگوئی کی ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض علاقوں میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر سکتا ہے، جو جون کے مہینے کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔
ادھر پیرس میں بھی جون کے مہینے کا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں پارہ 38.4 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔
اسپین کے موسمیاتی ادارے کے ترجمان روبن ڈیل کامپو کے مطابق کئی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے پانچ سے دس ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض شمالی علاقوں میں یہ فرق اس سے بھی زیادہ ہے۔
اٹلی میں صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے، جہاں 12 شہروں میں ہیٹ ویو کے باعث ریڈ الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ بجلی کے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث توانائی فراہم کرنے والی کمپنیوں نے اضافی عملہ تعینات کر دیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں بجلی کی جزوی بندش کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ گرمی کی لہر مزید برقرار رہی تو یورپ کو صحت، توانائی اور روزمرہ زندگی کے شعبوں میں مزید سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔