ریاض: سعودی حکام نے رہائشی، لیبر اور سرحدی حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ملک گیر مہم تیز کرتے ہوئے صرف ایک ہفتے کے دوران 15 ہزار 288 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں نے مشترکہ کارروائیوں کے دوران مملکت بھر سے ان تارکینِ وطن کو زیرِ حراست لیا ہے جو اقامہ، بلدیاتی قوانین یا ملکی سرحدوں کی سلامتی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزیوں کے مرتکب پائے گئے تھے۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق، گرفتار کیے گئے کل افراد میں سے 7,864 وہ لوگ ہیں جنہوں نے بنیادی طور پر رہائشی قوانین (اقامہ) کی سنگین خلاف ورزیاں کیں۔ ان میں وہ تارکینِ وطن بھی شامل ہیں جو ویزے کی قانونی مدت ختم ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر مملکت میں مقیم رہے اور انہوں نے مقررہ وقت پر اپنے ویزوں کی تجدید یا عدم تجدید سے متعلق قوانین کو یکسر نظر انداز کیا۔
رپورٹ کے مطابق، دوسری بڑی تعداد ان افراد کی ہے جنہیں مملکت کی سرحدی سلامتی سے متعلق قوانین پامال کرنے اور غیر قانونی طور پر سعودی عرب کی سرحدوں میں داخل ہونے یا داخلے کی کوشش کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق ان افراد کی کل تعداد 4,576 بتائی گئی ہے۔ مزید برآں، ایک تیسری بڑی تعداد ان ورکرز کی ہے جو لیبر قوانین اور کام کاج کے ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث تھے، جن کی تعداد 2,848 ہے۔
سعودی سیکیورٹی حکام کی جانب سے ظاہر کیے گئے ڈیٹا کے مطابق، جن غیر قانونی تارکینِ وطن نے غیر قانونی طور پر سعودی سرحد عبور کرنے کی کوشش کی، ان میں سب سے بڑی شرح ایتھوپیا کے شہریوں کی ہے جو کل تعداد کا 53 فیصد بنتی ہے۔ دوسرے نمبر پر یمنی شہری ہیں جن کا تناسب 46 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ دیگر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد محض ایک فیصد ہے۔ اس کے علاوہ، حکام نے 54 ایسے افراد کو بھی حراست میں لیا ہے جنہوں نے سعودی عرب کی سرحدوں سے نکل کر پڑوسی ممالک میں غیر قانونی بنیادوں پر داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ وزارتِ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی تارکین کو پناہ یا سفری سہولیات دینے والوں کے خلاف بھی سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔