پشاور: خیبر پختونخوا حکومت کا صوبے میں گندم کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز
حکومتِ خیبر پختونخوا نے صوبے میں غذائی ضروریات کو پورا کرنے اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے گندم کی خریداری کے فنڈز جاری کر دیے ہیں۔ محکمہ خوراک خیبر پختونخوا نے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو ایک باضابطہ مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں مالی سال 26-2025 کے لیے 25 ہزار میٹرک ٹن گندم کی پہلی قسط فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خط کے متن کے مطابق، محکمہ خوراک نے پاسکو کو گندم کی قیمت کی پیشگی ادائیگی کر دی ہے، لہٰذا پاسکو کے منظور شدہ ٹھیکیداروں کو سال 2024 کی کٹی ہوئی گندم فراہم کی جائے۔ مراسلے میں تاکید کی گئی ہے کہ پنجاب کے مختلف مراکز بشمول بورے والا، خانیوال، اوکاڑہ، ساہیوال اور ملتان سے گندم کی بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ صوبے میں آٹے کی طلب و رسد کا توازن برقرار رہے۔
محکمہ خوراک نے مختلف اضلاع کے لیے گندم کے کوٹے کی تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں۔ اعلامیے کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن کے لیے ساڑھے 4 ہزار میٹرک ٹن، لوئر دیر کے لیے ساڑھے 7 ہزار، اپر دیر کے لیے 500 میٹرک ٹن، سوات کے لیے ساڑھے 3 ہزار اور بونیر کے لیے 5 ہزار میٹرک ٹن گندم مختص کی گئی ہے۔ اسی طرح مانسہرہ کے لیے 3 ہزار جبکہ بٹگرام کے لیے ایک ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کی جائے گی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے صوبے بھر میں گندم کی وافر دستیابی ممکن ہو سکے گی۔