طارق ابو الحسن
خاتون فضائی میزبان کی ناک پر مکہ مار کر زخمی کردیا اور دانت بھی توڑ دیا۔ ایر لائن ذرائع واقعہ گذشتہ روز 18 مارچ کو کوئٹہ سے اسلام آباد جانے والی سرین ایر کی فلائٹ نمبر 540 میں پیش آیا۔ سابق کمشنر کوئٹہ افتخار جوگزئی بیٹی صائمہ کے ساتھ سفر کررہے تھے۔ دونوں نے کوئٹہ ایر پورٹ پر چیک ان کرتے وقت بھی عملے سے بدتمیزی کی تھی۔ طیارے میں داخل ہونے کے بعد فضائی عملہ مسافروں کو سیٹ بیلٹ باندھنے سمیت دیگر ہدایات دیتا ہے۔ خاتون فضائی میزبان نے صائمہ جوگزئی سے بھی سیٹ بیلٹ باندھنے اور کھانے کی میز بند کرنے کو کہا۔ اس پر سابق کمشنر کی بیٹی صائمہ جوگزئی آپے سے باہر ہوگئی۔ مبینہ طور پر سابق کمشنر افتخار جوگزئی اور ان کی بیٹی صائمہ جوگزئی نے غیرشائستہ زبان استعمال کی اور طیارے میں شورشرابہ شروع کر دیا۔ فضائی میزبان نے کپتان کو معاملے سے آگاہ کیا۔ باپ بیٹی کی جانب سے ہنگامہ آرائی جاری رکھنے پر کپتان نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کیا اور طیارہ کو رن وے سے واپس لے آیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس کو طیارے میں فوری طور پر طلب کرلیا گیا۔ مسلسل ہنگامہ آرائی پر طیارے کے کپتان نے مسافروں کے تحفظ کی خاطر باپ اور بیٹی کو آف لوڈ کرنے کے لیے کہا۔ صائمہ جوگزئی نے طیارے سے اترنے سے انکار کردیا اور غصے میں ایک فضائی میزبان کو مکہ دے مارا۔ ایر لائن انتظامیہ کے مطابق چہرے پر مکہ لگنے سے خاتون فضائی میزبان کی ناک سے خون نکلنے لگا اور ایک دانت بھی ٹوٹ گیا۔ فضائی میزبان کے زخمی ہوتے ہیں اے ایس ایف نے دونوں باپ بیٹی کو حراست میں لے لیا۔ ایر لائن انتظامیہ کا بتانا ہے کہ واقعے کے بعد بلوچستان انتظامیہ نے معاملہ ختم کرنے کیلئے دباو ڈالا۔ کمشنر کوئٹہ فوری طور پر کوئٹہ ائیرپورٹ پہنچے ، اے ایس ایف سے صورتحال معلوم کی اور معاملہ رفع دفع کرنے کا کہا، بعد میں کمشنر کوئٹہ کی جانب سے باپ بیٹی سے تحریری معافی نامہ لکھوایا گیا، معافی نامے کے بعد دونوں باپ بیٹی کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے جانے کی اجازت دے دی گئی، جبکہ زخمی ایر ہوسٹس کو ہسپتال روانہ کر دیا گیا۔ ایئر لائن ذرائع کا بتانا ہے کہ طیارے میں ہنگامہ آرائی کرنے والی خاتون مبینہ طور پر نشے میں تھی۔ یہ واقعہ فضائی عملے کی عزت اور تحفظ پر ایک بڑا سوال بھی ہے۔