حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خیبر پختونخوا: علاقائی زبانوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کے لیے ماہرین کی کمیٹیوں کا نوٹیفیکیشن جاری Home / پاکستان /

خیبر پختونخوا: علاقائی زبانوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کے لیے ماہرین کی کمیٹیوں کا نوٹیفیکیشن جاری

ایڈیٹر - 28/01/2026
خیبر پختونخوا: علاقائی زبانوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کے لیے ماہرین کی کمیٹیوں کا نوٹیفیکیشن جاری

خیبر پختونخوا حکومت کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے صوبے میں علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے مختلف علاقائی زبانوں کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اس ضمن میں جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سیکریٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم نے مجاز اتھارٹی کی حیثیت سے اس کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی ہے، جو فوری طور پر اپنے فرائض کا آغاز کرے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کمیٹی صوبے میں بولی جانے والی علاقائی زبانوں، جن میں سرائیکی، کھوار/چترالی، ہندکو اور پشتو شامل ہیں، کے ماہرین پر مشتمل ہے۔ سرائیکی زبان کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والی ریٹائرڈ پرنسپل شاہدہ نسیم، ایس ایس ٹی سید مظہر علی تابش اور سی ٹی محمد رمضان کاوش کو شامل کیا گیا ہے۔ کھوار یا چترالی زبان کی نمائندگی علی احمد بازمی اور محسن حسن کریں گے، جو پشاور کے مختلف سرکاری ہائی سکولوں سے وابستہ ہیں۔

ہندکو زبان کے ماہرین میں گورنمنٹ کالج پشاور کے پروفیسر خالد سہیل ملک، پروفیسر صبیح احمد اور ایبٹ آباد کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نوابشہر کے ایس ایس ٹی ناصر بختیار خان شامل ہیں۔ اسی طرح پشتو زبان کے لیے معروف ماہرین تعلیم اور ادبی شخصیات کو کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے، جن میں سابق چیئرمین شعبہ پشتو ڈاکٹر عباسین یوسفزئی، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں کے چیئرمین شعبہ پشتو ڈاکٹر طارق محمود دانش، ڈائریکٹوریٹ آف کری کیولم اینڈ ٹیچر ایجوکیشن سے مس سیما کاکاخیل اور گورنمنٹ کالج مٹھڑا کی پروفیسر شگفتہ شامل ہیں۔

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے مطابق کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ صوبے میں علاقائی زبانوں کے نفاذ سے متعلق اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لے، جو پہلے سے منظور شدہ ایکشن پلان کے تحت کی گئی ہے۔ کمیٹی اس جائزے کی بنیاد پر علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے اپنی سفارشات مرتب کرے گی، جو محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو پیش کی جائیں گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اس فیصلے کی نقول صوبے بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز، پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی، ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، ڈائریکٹوریٹ آف کری کیولم اینڈ ٹیچر ایجوکیشن ایبٹ آباد اور دیگر متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبے کی لسانی و ثقافتی شناخت کو مضبوط بنانا اور نئی نسل کو اپنی مادری زبانوں سے جوڑنا ہے۔