ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھمکیوں، دباؤ اور ناکہ بندی کے ماحول میں کسی بھی قسم کے مذاکرات میں شمولیت ممکن نہیں۔ انہوں نے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ سابقہ بات چیت نے اعتماد کو مضبوط کرنے کے بجائے مزید کمزور کیا۔
ایرانی حکومت کے مطابق صدر پزشکیان نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک جارحانہ پالیسیوں اور اقدامات کا خاتمہ نہیں ہوتا، اس وقت تک اعتماد کی بحالی ممکن نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ امریکا عملی رکاوٹیں دور کرے اور بحری ناکہ بندی جیسے اقدامات ختم کرے، تاکہ بامعنی بات چیت کی راہ ہموار ہو سکے۔
دوسری جانب پاکستانی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اپریل کے دوران ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی شرکت کو سراہا، جو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں پاکستان آیا تھا۔
اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ صدر پزشکیان نے پاکستان کی قیادت کی جانب سے خطے میں امن کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات مستقبل میں مزید وسعت اختیار کریں گے۔