پاکستان میں سائبر جرائم میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور حالیہ دنوں میں اراکینِ پارلیمنٹ بھی آن لائن جعلسازوں کا ہدف بن گئے ہیں۔ این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق کم از کم 11 ارکانِ پارلیمنٹ آن لائن مالی فراڈ، جعلی شناخت، ہراسانی اور بدنامی جیسے جرائم سے متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جعلسازوں نے منظم انداز میں معروف سیاسی شخصیات اور اداروں کے نام استعمال کر کے رقوم بٹوریں۔ رکنِ قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا سے چار لاکھ 90 ہزار روپے، سینیٹر فلک ناز سے شوکت خانم ہسپتال کے نام پر چار لاکھ 85 ہزار روپے جبکہ سینیٹر بلال احمد مندوخیل سے گورنر کے نام پر رقم وصول کی گئی۔ ان مقدمات میں ملزمان گرفتار اور رقوم برآمد کر لی گئی ہیں۔
اسی طرح سینیٹر پلوشہ خان سے آن لائن سرمایہ کاری کے نام پر فراڈ کی کوشش، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سید لال خان کے نام پر جعلی آئی ڈی، اور سینیٹر نیاز احمد کے نام سے ان کے جاننے والے فرد سے رقم ہتھیانے کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے متعدد کیسز میں گرفتاریاں عمل میں آ چکی ہیں۔
این سی سی آئی اے کے مطابق فہرست میں آن لائن ہراسانی، بدنامی اور ہتکِ عزت سے متعلق مقدمات بھی شامل ہیں، جن میں بعض تحقیقات مکمل جبکہ چند زیرِ تفتیش ہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ سائبر جرائم کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔