پشاور ۔ وزیر اعلی خیبر پختونخو اسہیل آفریدی کے زیر صدارت باڑہ میں منعقدہ امن جرگے میں مختلف مطالبات کئے گئے ہیں۔
جن کے مطابق (1) ہمارے عوام اور سکیورٹی فورسز نے بے پناہ قربانیاں دے کر امن قائم کیا تھا لیکن آج پھر ملٹری آپریشن کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ ہم اپنے علاقوں میں کسی بھی نئے ملٹری آپریشن کو قبول نہیں کریں گے۔
(2) ہم امن کے قیام میں اپنی سکیورٹی فورسز اور ریاست پاکستان کے ساتھ ہیں، لیکن معصوم جانوں کے ضیاع میں کسی کا ساتھ نہیں دینگے۔ اس بار کسی معصوم شہری کی جان نہیں جانی چاہیے، اور اگرگئی تو انشا اللہ اس کا حساب ضرور لیا جائے گا۔ (3) ہمارا مطالبہ ہے کہ خیبر پختونخوا، مرکز اور قبائلی اضلاع کے مستقبل سے متعلق جو بھی فیصلہ ہو، اس میں خیبر پختو نخوا حکومت، یہاں کے مشران ، عمائدین اور پارلیمنٹیرینز کو شامل کیا جائے ۔ ہم بند کمروں میں ہونے والے فیصلے کسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔ (4) امن کے ساتھ ساتھ ہم پورے خیبر پختو نخوا میں ترقی بھی چاہتے ہیں۔ انضمام کے وقت قبائلی اضلاع سے کیے گئے وعدے فوری طور پر پورے کیے جائیں اور ان کے بقایا جات ادا کئے جائیں۔
(5) این ایف سی کی میٹنگ فوری بلائی جائے ، اور ہمارا حصہ، جو ساڑھے تین سو ارب روپے سے زیادہ بنتا ہے، فورا ادا کیا جائے۔
(6)خیبر پختونخوا کے مرکزی حکومت پر واجب الادا 2200 ارب روپے سے زائد کے بقایا جات بھی فوری طور پر ادا کیے جائیں۔