پشاور (خبرنگار خصوصی، حسبان میڈیا)
خیبر پختونخوا میں بڑے پیمانے پر لاپتہ سرکاری گاڑیوں کے حوالے سے مرتب کردہ ہنگامی رپورٹس جمع کر لی گئی ہیں، جس میں املاک کے غیر قانونی اور من پسند استعمال سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ باقاعدہ دستاویزات کے مطابق، متعدد سرکاری گاڑیاں سیاسی و سرکاری شخصیات کو غیر قانونی طور پر تحفے میں دی گئی ہیں، جس پر سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افراد کو جواب دہی کے لیے باقاعدہ نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مندرجات کے مطابق، بعض سرکاری گاڑیاں خون کے عطیات دینے والے اداروں کے سربراہان کے حوالے کی گئی ہیں، جبکہ مختلف خواتین کالجز کی پرنسپلز کو بھی غیر قانونی طور پر گاڑیاں فراہم کی گئیں۔ مزید برآں، میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ایسے ڈاکٹرز اور نان پریکٹیکل ملازمین و افسران بھی سرکاری گاڑیوں کا لطف اٹھا رہے ہیں جو اس کے مجاز نہیں تھے۔ سیاسی شخصیات کی براہِ راست ہدایات پر بعض بااثر افراد کے بچوں، بیگمات اور یہاں تک کہ مخصوص تاجروں کو بھی سرکاری گاڑیاں فراہم کی گئی تھیں، جنہیں اب واپس لوٹانے کے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔
صوبائی حکومت نے تمام محکموں سے سرکاری گاڑیوں کے بارے میں تفصیلی ریکارڈ طلب کر لیا ہے، جس میں یہ واضح کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ کس محکمے کے پاس کتنی گاڑیاں موجود ہیں اور ان کے پٹرولیم و دیگر اخراجات کے لیے جاری ہونے والے کارڈز کی کیا صورتحال ہے۔ رپورٹ میں پشاور اور دیگر اضلاع میں ای پی آئی (EPI) کی گاڑیوں کا بھی خصوصی ذکر کیا گیا ہے جس کی جامع جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، کیونکہ پشاور میں ای پی آئی کی ہی تین گاڑیاں مبینہ طور پر غائب ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، صوبے میں ایک ہی افسر کے پاس تین تین سرکاری گاڑیاں ہونے اور چوری ہونے والی گاڑیوں کا ریکارڈ بھی اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ ذمہ داران کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا سکے۔