پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے صوبے کے مختلف اضلاع میں تھری ایم پی او (3 MPO) کے تحت حراست میں لیے گئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 28 کارکنوں کی فوری رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے درخواست گزاروں کو باقاعدہ طور پر یہ حلف نامے جمع کرانے کی سخت ہدایت کی ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے۔ پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے احسان، حارث اور بابر سمیت دیگر 28 درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کردہ رٹ پٹیشنز پر تفصیلی سماعت کے بعد یہ اہم فیصلہ سنایا۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے نامور وکلاء یاسر خٹک، اظہار رحیم، سجاد احمد اور سعید عثمان ایڈوکیٹس عدالت میں پیش ہوئے۔ وکلاء نے معزز عدالت کو آگاہ کیا کہ ان درخواست گزاروں کا تعلق پشاور، کرک، ٹانک، کوہاٹ، لکی مروت، تورغر، باڑہ اور اورکزی سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع اور دیگر علاقوں سے ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ان 27 پی ٹی آئی کارکنوں کو گزشتہ 12 اکتوبر کو 3 ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، جو کہ سراسر غیر قانونی اقدام ہے۔ وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ ان کارکنوں کی گرفتاری کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی وہ کسی مجرمانہ واقعے یا جرم میں ملوث ہیں، بلکہ انہیں بغیر کسی جرم یا الزام کے محض سیاسی بنیادوں پر حراست میں رکھا گیا ہے، جس پر عدالت نے دلائل سننے کے بعد کارکنوں کی رہائی کے احکامات جاری کیے۔