اسلام آباد ۔ ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے پاکستان کے تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینے کا اعلان کیا ہے پاکستان اور ازبکستان کے تجارتی حجم میں اضافے اور دونوں ممالک کے مابین کا روباری سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے پاکستان از بکستان بزنس فورم کا انعقاد اسلام آباد میں ہوا،
جس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر ازبکستان شوکت مرزائیوں نے شرکت کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، ازبکستان کے شر کار کو خوش آمدید کہتا ہوں، دونوں ممالک میں اقتصادی تعلقات اور تجارتی روابط میں اضافہ خوش آئند ہے،
نجی شعبوں کے درمیان 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت ہے، گزشتہ بزنس فورم کی بدولت با ہمی تجارتی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ باہمی اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بزنس فورم ایک موثر پلیٹ فورم ہے، گزشتہ ایک سال میں 450 ملین ڈالر کی تجارتی سرگرمیاں ممکن ہوئیں، دونوں ممالک میں باہمی تجارت کے مزید فروغ کی صلاحیت موجود ہے، باہمی تجارت کا حجم 2 ارب ڈالر تک لیجانے پر اتفاق ہوا ہے۔
وزیر اعظم نے آگاہ کیا کہ ازبکستان کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت، ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مہنگائی کی شرح کم کر کے سنگل ڈیجٹ میں لائے ہیں، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی ہوئی ہے، 2023 میں اقتصادی حالت خراب تھی ، معاشی چیلنجز پر کامیابی سے قابو پایا، پاکستان کا آئی ٹی کا شعبہ ترقی کر رہا ہے۔
انہوں نے ازبک صدر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کی قیادت میں ازبکستان کی مجموعی پیداوار گزشتہ 10 سال میں دو گنا ہوئی ، از بک قیادت نے 85لاکھ افراد کو غربت سے نکالا، بیروزگاری میں کمی کی ،
ہم از بک کمپنیوں کو سرمایہ کاری کا محفوظ اور پرکشش ماحول فراہم کریں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان
از بکستان میں پلانٹس لگانے کے خواہاں ہیں، ٹیکسٹائل پلانٹس سیدونوں ممالک کو معاشی فائدہ ہوگا، قدرتی وسائل صحت ، ٹرانسپورٹ اور سیاحت میں تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، ازبکستان میں چاول اور آلو کی مانگ کو پورا کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ از بک تاجر حضرات تجاویز لائیں ، بیورو کریسی کسی قسم کی رکاوٹ کا باعث نہیں بنے گی۔