تیمرگرہ (اسماعیل انجم سے)
جماعتِ اسلامی لوئر دیر نے ضلع کو درپیش سنگین مسائل کے خلاف ’’ضلع بچاؤ مہم‘‘ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت رمضان المبارک کے بعد ٹھوس شواہد اور معلومات اکٹھی کرکے باقاعدہ عوامی تحریک چلائی جائے گی۔
اتوار کے روز ضلعی سیکرٹریٹ احیاء العلوم بلامبٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی لوئر دیر کے ضلعی امیر اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا اسداللہ خان نے کہا کہ اس وقت پورا ضلع شدید بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، کرپشن عروج پر ہے جبکہ تعلیم اور صحت کے شعبے مکمل طور پر تباہی سے دوچار ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب جماعتِ اسلامی کے منتخب قومی و صوبائی نمائندگان کا دور تھا تو لوئر دیر صوبے میں تعلیمی میدان میں نمایاں مقام رکھتا تھا، مگر موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں اور عدم توجہی کے باعث آج ضلع میں تعلیمی نظام زوال پذیر ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے دیر یونیورسٹی کا منصوبہ ختم کر دیا جبکہ بی ایس سسٹم محض برائے نام رہ گیا ہے اور طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ ضلع بھر میں تعلیم کے شعبے میں دو ہزار سے زائد آسامیاں خالی پڑی ہیں، جو حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ محکمہ تعلیم میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (زنانہ) کی آسامی طویل عرصے سے خالی ہے اور اس کا چارج ایک مرد افسر کو دے دیا گیا ہے۔
مولانا اسداللہ خان نے صحت کے شعبے کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل کالج عملی طور پر قبرستان بن چکا ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں نہ علاج میسر ہے اور نہ ادویات۔ آئی سی یو بند پڑا ہے، جبکہ سرکاری نوکریاں کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ کے نام پر لوٹ مار جاری ہے اور غریب عوام دربدر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضلع کی رابطہ سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں، تمام سرکاری محکموں میں رشوت عام ہے، جبکہ خال جاپان پل گزشتہ کئی سالوں سے بے یارو مددگار پڑا ہے اور علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت پل تعمیر کرنے پر مجبور ہیں، حالانکہ وزیراعلیٰ خود دورہ کر کے پل کی تعمیر کا اعلان کر چکے تھے۔
ضلعی امیر نے کہا کہ تیمرگرہ سٹی کو بیوٹیفکیشن کے نام پر کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے، بلدیاتی نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے، جبکہ بجلی کے بھاری بل، کم وولٹیج اور ناروا لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ کھیلوں کے میدان ویران پڑے ہیں اور نوجوان نسل شدید مایوسی کا شکار ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ 2021 سے 2025 کے دوران اینٹی کرپشن انکوائری میں ضلع لوئر دیر میں کروڑوں روپے کی کرپشن سامنے آئی تھی، مگر افسوسناک طور پر اب اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔
آخر میں مولانا اسداللہ خان نے کہا کہ اب خاموشی نہیں بلکہ احتساب کا وقت آ چکا ہے۔ جماعتِ اسلامی عوام کے حقوق کے تحفظ اور ضلع کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
پریس کانفرنس میں سابق قومی و صوبائی اراکین اسمبلی اعزازالملک افکاری، صاحبزادہ محمد یعقوب ، بلدیاتی نمائندگان، جماعتِ اسلامی کے ضلعی جنرل سیکرٹری محمد شعیب و دیگر قیمین، امراء اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔