حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
• اگر تحریکِ انصاف نے اسمبلیوں سے استعفے دیے تو ان کے 40 ارکانِ اسمبلی استعفیٰ نہیں دیں گے۔طارق فضل چوہدری۔ Home / سیاست /

• اگر تحریکِ انصاف نے اسمبلیوں سے استعفے دیے تو ان کے 40 ارکانِ اسمبلی استعفیٰ نہیں دیں گے۔طارق فضل چوہدری۔

ایڈیٹر - 20/10/2026
• اگر تحریکِ انصاف نے اسمبلیوں سے استعفے دیے تو ان کے 40 ارکانِ اسمبلی استعفیٰ نہیں دیں گے۔طارق فضل چوہدری۔

سابق وزیراعلیٰ کے پی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے، طارق فضل چوہدری کا دعویٰ

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے چوتھے ڈرافٹ (مسودے) کی منظوری پاکستان کے بجائے افغانستان سے لے رہے تھے۔ جیو نیوز کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کے دوران وفاقی وزیر نے ماضی میں بیک ڈور چینل سے ہونے والے مذاکرات کی اندرونی تفصیلات اور پی ٹی آئی کے ممکنہ پارلیمانی استعفوں کے حوالے سے اہم ترین حقائق سامنے رکھ دیے۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کا یہ عمل خود وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر شروع ہوا تھا اور حکومتی کمیٹی کو قوی امید تھی کہ یہ بات چیت ملکی استحکام کے لیے نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران مسلسل مشاورت سے چوتھا ڈرافٹ تیار کیا گیا تھا، جس کی حتمی منظوری اس وقت کے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے لینا تھی، تاہم موصول ہونے والی معلومات کے مطابق کے پی کی قیادت اس اہم قومی معاملے پر ڈرافٹ کی توثیق کے لیے افغانستان سے رابطے میں تھی۔

محمود خان اچکزئی کے سیاسی کردار پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے میڈیا رپورٹس کی تصدیق کی اور بتایا کہ محمود اچکزئی نے واضح موقف اپنایا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات میں ملاقات کا ایک واضح ٹائم فریم اور بحران کا مستند حل موجود تھا؛ اگر چیزیں اس وقت حل ہو جاتیں تو شاید ملکی سیاست کے معاملات آج بالکل مختلف ہوتے۔ تحریکِ انصاف کی پارلیمانی حکمتِ عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا کہ اگر پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت اسمبلیوں سے استعفے دینے کا فیصلہ کرتی بھی ہے، تو ان کے کم و بیش 40 ارکانِ اسمبلی اس فیصلے کی باغی ہو کر استعفے جمع نہیں کرائیں گے۔