البانیہ میں وزیراعظم کے استعفے کے لیے احتجاج پانچویں روز بھی جاری، پولیس کی فائرنگ سے متعدد مظاہرین زخمی
تیرانا (این این آئی): یورپی ملک البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں وزیراعظم ایڈی راما کے استعفے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے، تاہم وزیراعظم نے عہدہ چھوڑنے کے مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ یونیورسٹیوں کی ابتر صورتحال اور بھاری تعلیمی فیسوں کے خلاف جاری اس احتجاج کے پانچویں روز پولیس اور ہزاروں مظاہرین کے درمیان شدید ترین جھڑپیں ہوئیں۔ امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا، جبکہ واٹر کینن، آنسو گیس اور مرچوں کے اسپرے کا بھی بے دریغ استعمال کیا گیا۔
عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، دارالحکومت تیرانا کی سڑکیں آنسو گیس اور دھوئیں سے بھر گئیں۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، دیسی ساختہ آتش گیر بوتلیں (پٹرول بم) اور آتش بازی کے آلات پھینکے، جبکہ متعدد گاڑیوں اور کوڑے دانوں کو آگ لگا کر سڑکیں بلاک کر دیں۔ جھڑپوں کے دوران ربڑ کی گولیاں لگنے سے کئی نوجوان زخمی ہوئے جنہیں سر، آنکھوں اور ٹانگوں پر چوٹیں آئیں اور انہیں مظاہرین کے عارضی طبی امدادی کیمپوں میں فرسٹ ایڈ فراہم کی گئی۔ وزارتِ صحت کے مطابق، ان جھڑپوں میں نو مظاہرین اور چار پولیس اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے، جبکہ زخمیوں میں 16 اور 17 سال کے کم عمر نوجوان بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب، البانیہ کے پولیس سربراہ اسکندر ہیتا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ربڑ کی گولیوں کے استعمال کا دفاع کیا اور مؤقف اپنایا کہ یہ کارروائی قانون کے دائرے میں رہ کر کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتے بھر کے احتجاج کے دوران 167 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ 388 افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کی گئی ہے۔ پولیس سربراہ نے انکشاف کیا کہ پانچ روزہ احتجاج کے دوران مجموعی طور پر 132 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے اختیارات سے تجاوز کرنے والے سات پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔