قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی اور ترقیاتی کاموں میں تیزی کے لیے فاٹا سیکریٹریٹ کو دوبارہ فعال کرنے کا ہوم ورک شروع
پشاور : صوبہ خیبر پختونخوا کے 12 مخصوص اضلاع اور قبائلی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال کی بہتری، ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے اور اہم انتظامی امور کو منظم کرنے کے لیے فاٹا سیکریٹریٹ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے ہوم ورک کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق سابقہ دورِ حکومت میں فاٹا سیکریٹریٹ کو ختم کر دیا گیا تھا، تاہم اب اسے دوبارہ فعال کرنے کے لیے اہم تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس نئی حکمتِ عملی کے تحت 12 مخصوص اضلاع اور قبائلی علاقوں کے حوالے سے مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے، جن میں 'بھوت سرکاری ملازمین' کے خلاف مزید کارروائی کرنا بھی شامل ہے۔ ان 12 اضلاع میں مستقبل بنیادوں پر امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات نافذ العمل لائے جائیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ صوبے کے ان مخصوص 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کی جا چکی ہے، جن میں بعض قبائلی علاقے بھی شامل ہیں۔
نئے انتظامی ڈھانچے کے مطابق فاٹا سیکریٹریٹ کو محدود رکھا جائے گا جبکہ فاٹا سیکریٹریٹ میں ایڈمنسٹریٹر مخصوص اضلاع، ایڈیشنل آئی جی مخصوص اضلاع اور دیگر اعلیٰ انتظامی افسران موجود ہوں گے۔ مزید برآں، ان افسران کے دفاتر کو فاٹا سیکریٹریٹ منتقل کیا جائے گا جبکہ فاٹا سیکریٹریٹ سے دیگر دفاتر کو سول سیکریٹریٹ منتقل کر دیا جائے گا۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ تمام تر انتظامی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور فاٹا سیکریٹریٹ کی بحالی کا جلد امکان ہے۔