حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
عمران خان ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئے؛پارٹ ٹو اور تھری آنا ابھی باقی ہے۔ سینیٹر فیصل واوڈ Home / سیاست /

عمران خان ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئے؛پارٹ ٹو اور تھری آنا ابھی باقی ہے۔ سینیٹر فیصل واوڈ

ایڈیٹر - 19/10/2026
عمران خان  ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئے؛پارٹ ٹو اور تھری آنا ابھی باقی ہے۔ سینیٹر فیصل واوڈ

بانی پی ٹی آئی، بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی آگے نکل چکے؛ سینیٹر فیصل واوڈا کی ملکی سیاسی صورتحال پر کڑی تنقید

اسلام آباد: آزاد سینیٹر فیصل واوڈا نے ملکی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان، بانی ایم کیو ایم کی منفی و احتجاجی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل چکے ہیں۔ جیو نیوز کے معروف پروگرام 'جرگہ' میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ملکی سیاسی مستقبل، گورنر راج اور جاری ایمرجنسی کی صورتحال پر کھل کر بات کی اور آنے والے مہینوں کو ملکی بقا کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔

سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ 90 یا 180 دنوں میں ملک سے گورنر راج اور ایمرجنسی ختم ہوتے ہوئے نہیں دیکھ رہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں مزید کسی نئے گورنر راج، مارشل لا یا صدارتی نظام کے نفاذ کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے موجودہ سیاسی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ طوفان کا صرف 'پارٹ ون' (پہلا حصہ) ہے، جبکہ 'پارٹ ٹو' اور 'پارٹ تھری' آنا ابھی باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس پولیٹیکل کیپیٹل (سیاسی سرمایہ) باقی نہیں بچا، اس لیے اب تھوڑا یا زیادہ، ملک کی بہتری کے لیے ہر کسی کو مل کر کام کرنا ہوگا، جبکہ انہوں نے وزیراعظم کی موجودہ کارکردگی کو سراہا۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کے کچھ تحفظات ہیں تو حکومت کو فوری طور پر انہیں دور کرنا چاہیے۔ اپنی سینیٹرشپ اور سیاسی وابستگیوں کے حوالے سے انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں سینیٹ کے انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور ایم کیو ایم پاکستان نے ووٹ دیا تھا، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے انہیں ووٹ نہیں دیا اور ان کا ن لیگ کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود ملک اب ایک مثبت جمہوریت کی جانب گامزن ہوچکا ہے۔