حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
محمود خان اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے صاف انکار،پی ٹی آئی قیادت کو کھرا جواب Home / سیاست /

محمود خان اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے صاف انکار،پی ٹی آئی قیادت کو کھرا جواب

ایڈیٹر - 19/10/2026
 محمود خان اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے صاف انکار،پی ٹی آئی قیادت کو کھرا جواب

قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کا استعفیٰ دینے سے انکار، اپوزیشن کی اندرونی سیاست میں ہلچل

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی جانب سے عہدہ چھوڑنے کے مبینہ مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مستعفی ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اتوار کی شب دیر گئے اپنی 'تحریکِ بحالیِ آئین' کے اجلاس کے بعد قریبی ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک موقف اختیار کیا کہ وہ کسی کمیٹی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ہفتے کی دیر شام منعقد ہوا تھا جو آدھی رات تک جاری رہا، جس میں محمود خان اچکزئی سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ چھوڑنے کا مبینہ مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس مطالبے پر ردعمل دیتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا، "اگر اڈیالہ جیل میں موجود وہ شخص، جس نے مجھے قائدِ حزبِ اختلاف نامزد کیا تھا، مجھ سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کرے گا تو میں فوری مستعفی ہو جاؤں گا۔" واضح رہے کہ محمود خان اچکزئی کو کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی اپنی جماعت کے واحد رکنِ پارلیمنٹ ہونے کے باوجود رواں سال جنوری میں بانی پی ٹی آئی کی خصوصی نامزدگی پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے طویل قانونی و سیاسی کشمکش کے بعد اپوزیشن لیڈر مقرر کیا تھا۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد میں یہ تلخی اس وقت پیدا ہوئی جب محمود خان اچکزئی نے خیبر پختونخوا کے سابق وزیرِ اعلیٰ کے اس "لانگ مارچ" میں شرکت نہیں کی تھی، جو بالآخر صوبے میں پی ٹی آئی کی 13 سالہ حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا۔ ذرائع نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ خود پی ٹی آئی سے وابستہ آزاد ارکانِ قومی اسمبلی بھی اس لانگ مارچ کے انعقاد اور اس کی منزل کے حوالے سے شدید اختلافات کا شکار تھے، جس کا اثر اب مرکزی اپوزیشن کے اتحاد پر بھی نظر آ رہا ہے۔