چارسدہ (ویب ڈیسک، حسبان میڈیا)
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ اس وقت اس کی تین سے چار مختلف فرنچائزز چل رہی ہیں، ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذاکرات کس دھڑے سے کیے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز چارسدہ میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان سے اہم ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
تفصیلات کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ سال 2013 سے صوبے کے حالات کو دانستہ طور پر خراب کیا گیا، جبکہ ماضی میں اے این پی اور پیپلز پارٹی نے مل کر اس خطے میں امن قائم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے دیرینہ مسائل پر وفاق سے بات چیت کے لیے انہوں نے اے این پی سے سیاسی حمایت مانگی ہے کیونکہ موجودہ صوبائی قیادت ماضی میں صرف گالم گلوچ کی سیاست کرتی رہی ہے، جبکہ ہم دلائل کے ساتھ وفاق کے سامنے صوبے کا مقدمہ لڑیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا تیل، گیس، زراعت، سیاحت اور سستی بجلی جیسے قدرتی وسائل سے مالامال ہے، اگر ان وسائل کا درست استعمال کیا جائے تو صوبے کو کبھی وفاق کی طرف نہیں دیکھنا پڑے گا۔
صوبے میں بدامنی اور معیشت پر بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکورٹی اداروں کی بلا مشروط حمایت ناگزیر ہے، اور پچھلے 13 سالوں سے پیدا کردہ مسائل کو محض 6 ماہ میں حل نہیں کیا جا سکتا۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے معدنیات سے متعلق بیان سے اتفاق نہیں کرتے، کیونکہ اگر معدنیات نہیں نکالی جائیں گی تو صوبے کی آمدنی میں اضافہ ممکن نہیں؛ البتہ تمام معاملات آئینی طریقہ کار کے مطابق حل ہوں گے۔ انہوں نے تنزیہہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے بغیر حکومت بنی تھی اور آگے بھی چلتی رہے گی۔ گورنر نے صوبے میں کڑے احتساب کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جزا اور سزا کا نظام نافذ کرنا ہوگا اور گزشتہ 13 سال کی کرپشن میں ملوث عناصر کو سزا دینا اداروں کی ذمہ داری ہے، تاہم کسی کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔