حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
گورنر راج جیسے سخت اور غیر جمہوری فیصلے کی نہ پہلے حمایت کی اور نہ اب کروں گا: ایمل ولی خان Home / سیاست /

گورنر راج جیسے سخت اور غیر جمہوری فیصلے کی نہ پہلے حمایت کی اور نہ اب کروں گا: ایمل ولی خان

ایڈیٹر - 18/10/2026
گورنر راج جیسے سخت اور غیر جمہوری فیصلے کی نہ پہلے حمایت کی اور نہ اب کروں گا: ایمل ولی خان

چارسدہ (ویب ڈیسک، حسبان میڈیا)
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال پر پارٹی کا اصولی مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی نے ہمیشہ گورنر راج کو غیر جمہوری قرار دے کر اس کی مخالفت کی ہے، اور وہ آئندہ بھی ایسے کسی سخت فیصلے کی حمایت نہیں کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز چارسدہ میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے اہم ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

تفصیلات کے مطابق میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ پختونخوا کے عوام کے لیے اگر موجودہ فیصلے کڑوے ہیں تو ماضی میں تحریک انصاف کے ادوار میں کیے گئے فیصلے اس سے بھی زیادہ کڑوے تھے۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے گزشتہ تینوں ادوار سراسر غیر جمہوری تھے اور جو باتیں آج کی جا رہی ہیں، اے این پی گزشتہ 12 سے 13 برسوں سے ان کا پرچار کر رہی ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کی یقین دہانیوں کے بعد اب ہماری کوئی شکایت باقی نہیں رہی، اگر وہ صوبے کے حقوق کی وکالت کریں گے تو اے این پی ان کا بھرپور ساتھ دے گی۔

اے این پی کے صدر نے صوبے میں کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملک میں بلاامتیاز احتساب کا عمل شروع ہونا چاہیے اور کسی بھی بااثر شخصیت کو معافی نہیں ملنی چاہیے۔ انہوں نے عدالتوں سے اپیل کی کہ پشاور بی آر ٹی، بلین ٹری سونامی اور مالم جبہ جیسے میگا کرپشن مقدمات پر جاری حکمِ امتناع (اسٹے آرڈرز) فوری ختم کیے جائیں، کیونکہ ان منصوبوں کے نام پر قوم کے اربوں روپے بے دردی سے لوٹے گئے ہیں جن کا حساب ہونا ناگزیر ہے۔