گورنر راج ہمیشہ پیپلز پارٹی نے لگایا اور صدر آصف زرداری نے دستخط کیے، صوبائی خودمختاری پر شب خون مارا گیا: مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد (حسبان میڈیا): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور خیبرپختونخوا میں حالیہ سیاسی اقدامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے تاریخی حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ملک میں جب بھی صوبوں کے اندر گورنر راج نافذ کیا گیا، وہ ہمیشہ خود کو جمہوریت کی علمبردار کہلانے والی جماعت پیپلز پارٹی نے ہی لگایا اور ان تمام احکامات پر صدر آصف علی زرداری کے دستخط موجود ہیں۔
ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے مقتدر حلقوں اور حکمران اتحاد سے سوال کیا کہ آخر ملک کو مسلسل محرومیوں کی طرف دھکیلنے کی کیا ضرورت ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین میں چاروں صوبوں کی خودمختاری واضح طور پر طے کر دی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ صوبوں کے جائز آئینی حقوق پر شب خون مارا گیا اور ان کے اختیارات کو سلب کرنے کی کوششیں کی گئیں۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنی جماعت کے سیاسی فلسفے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ امن، آئین، جمہوریت اور پارلیمنٹ کا پرامن راستہ اختیار کیا ہے اور کبھی بھی غیر آئینی ہتھکنڈوں کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسلام کے آفاقی راستے میں اقتدار کا لالچ، ہوس اور دنیا کے ذاتی مفادات ہمیشہ سے بڑی رکاوٹ رہے ہیں، جس کی وجہ سے اصولوں کی سیاست کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کے اس سخت بیان کو ملک کے حالیہ سیاسی منظر نامے اور گورنر راج کے نفاذ کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔