پشاور دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کا ہولناک واقعہ؛ 28 معصوم بچے اور خاتون ٹیچر جاں بحق، 40 سے زائد زخمی، اسکول مالک حراست میں
پشاور (حسبان میڈیا نیوز ڈیسک): صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک تین منزلہ نجی اسکول کی چھت گرنے کے دلخراش واقعے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کی تعداد 28 ہو گئی ہے، جبکہ ایک خاتون ٹیچر بھی ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو چکی ہیں۔ حادثے میں 40 سے زائد بچے زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نجی اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دیر کالونی میں واقع ایک تین منزلہ پرائیویٹ اسکول میں تدریسی سرگرمیاں جاری تھیں کہ اچانک عمارت کی چھت زمین بوس ہو گئی جس کے نتیجے میں درجنوں طلبہ اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اب تک ہسپتال میں 28 معصوم بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی لاشیں لائی جا چکی ہیں۔ طبی حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 7 سے 13 سال کے درمیان ہیں۔
دوسری جانب، سی سی پی او پشاور میاں سعید نے میڈیا کو بتایا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد 40 سے زیادہ ہے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ غفلت اور ناقص عمارت پر کارروائی کرتے ہوئے نجی اسکول کے مالک کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسکول کی عمارت تین منزلہ تھی، اور حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو چھت گرنے کے اسباب کی جامع تحقیقات کرے گی۔
ریسکيو حکام کا کہنا ہے کہ بھاری مشینری کی مدد سے اسکول کی عمارت کا ملبہ ہٹانے کا کام تیز کر دیا گیا ہے اور مزید بچوں یا عملے کی موجودگی کے خدشے کے پیشِ نظر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس اندوہناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ حادثے میں زخمی ہونے والے تمام بچوں کو علاج معالجے کی بہترین اور اعلیٰ ترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔