حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
کراچی: پروٹیکٹر کلیئرنس میں کروڑوں کی مبینہ بدعنوانی کا انکشاف، ایف آئی اے کی انکوائری شروع Home / پاکستان /

کراچی: پروٹیکٹر کلیئرنس میں کروڑوں کی مبینہ بدعنوانی کا انکشاف، ایف آئی اے کی انکوائری شروع

ایڈیٹر - 15/10/2026
کراچی: پروٹیکٹر کلیئرنس میں کروڑوں کی مبینہ بدعنوانی کا انکشاف، ایف آئی اے کی انکوائری شروع

کراچی میں پروٹیکٹر کلیئرنس کے دوران مبینہ رشوت ستانی کا انکشاف، ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل متحرک

کراچی (حسبان میڈیا نیوز ڈیسک): وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کراچی میں پروٹیکٹر کلیئرنس کے عمل میں مبینہ رشوت ستانی، غیر قانونی رقوم کی وصولی اور سنگین بے ضابطگیوں کے الزامات پر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ کارروائی شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق احمد مختار، محمد نوید، اسد صابر اور احد حسین نامی چار شہریوں نے ایف آئی اے سے رجوع کیا تھا۔ شکایت کنندگان نے الزام عائد کیا کہ پروٹیکٹر کلیئرنس کے سلسلے میں نجی ایجنٹ ندیم آرائیں نے ان سے غیر قانونی طور پر مجموعی طور پر 76 ہزار 400 روپے کی اضافی رقم وصول کی۔ شکایات پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ایف آئی اے امیگریشن کی ٹاسک ٹیم نے ابتدائی جانچ پڑتال کی اور معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کیس مزید کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل (ACC) کراچی کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ الزامات کی تصدیق کے لیے ایف آئی اے کی ٹیم نے ان متاثرہ شہریوں کے ہمراہ پی ای سی ایچ ایس (PECHS) بلاک 6 میں واقع بیورو آف امیگریشن کے دفتر پر چھاپہ مارا، جہاں شہریوں کی نشاندہی پر بیورو کے ایک سابق ملازم ندیم احمد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی۔

ابتدائی تفتیش کے دوران ندیم احمد نے دفتر کے اندر چلنے والے ایک منظم اور مربوط کرپشن نیٹ ورک کا پردہ چاک کیا۔ دورانِ بیان انکشاف ہوا کہ تمام دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں سے ملک کے حساب سے طے شدہ 'رشوت کے نرخ' وصول کیے جاتے ہیں۔ مبینہ ریٹ لسٹ کے مطابق افریقی ممالک جانے والوں سے 20 ہزار روپے، کینیڈا اور یورپی ممالک کے لیے 10 ہزار روپے، جبکہ خلیجی ممالک (جی سی سی) کے لیے 4 ہزار روپے فی کس اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق دورانِ کارروائی گرفتار ہونے والے ایک چوکیدار کے سنسنی خیز بیانات نے اعلیٰ حکام کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ چوکیدار کے مبینہ انکشاف کے مطابق اس غیر قانونی نیٹ ورک سے حاصل ہونے والی لاکھوں روپے کی رقم نجی ایجنٹس اور سرکاری ملازمین کے ذریعے ہفتہ وار بنیادوں پر اعلیٰ افسران تک پہنچائی جاتی ہے، جبکہ بعض معاملات میں رشوت کی ادائیگیاں امریکی ڈالرز میں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ ایف آئی اے حکام نے متعلقہ ریکارڈ قبضے میں لے کر آزادانہ تصدیق اور ملوث نجی و سرکاری اہلکاروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔