اسلام آباد (حسبان نیوز ): وفاقی دارالحکومت میں سیاسی ہلچل اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدارتی فرمان کی توثیق اور بحث کے لیے باضابطہ قرارداد قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کر دی گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت منعقدہ اس اہم ترین اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان کی معمول کی کارروائی اور وقفہ سوالات کو معطل کرنے کی تحریک پیش کی، جسے اسپیکر نے فوری طور پر منظور کر لیا۔ جس کے فوراً بعد خیبرپختونخوا میں صدارتی فرمان کے تحت ایمرجنسی لگانے کے اقدام کو بحث کے لیے باقاعدہ ایوانِ زیریں کے سامنے رکھا گیا۔
قرارداد پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے صوبے کی سیکیورٹی اور انتظامی صورتحال پر وفاق کا سخت مؤقف پیش کیا۔ وزیر قانون نے ایوان کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں اندرونی شدید خلفشار اور بیرونی عناصر کی دراندازی کے باعث آئینی طور پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ ناگزیر ہو چکا تھا۔ انہوں نے صوبائی انتظامیہ کو کڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی جیسے حساس اور ملکی بقا کے معاملے پر خیبرپختونخوا حکومت کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ رہا ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صوبائی مقتدر شخصیات کو نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ سہیل آفریدی نے صوبے کے امن و امان کو برقرار رکھنے کے بجائے اپنی ذاتی اور گروہی سیاست کو پروان چڑھانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ صوبائی قیادت نے ملک کے دفاع کے لیے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور معصوم عوام کی لازوال شہادتوں اور قربانیوں کو یکسر نظر انداز کیا، جس کی وجہ سے وفاق کو صوبے کے غیور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر یہ انتہائی آئینی قدم اٹھانا پڑا۔ قومی اسمبلی میں اس وقت قرارداد پر اپوزیشن اور حکومتی بینچوں کے درمیان گرما گرم بحث کا سلسلہ جاری ہے۔