حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
"مذاکرات طے ہونے کے قریب تھے لیکن شاید انہیں دوسرا 9 مئی کرنے کا حکم تھا"؛ وزیراعظم Home / سیاست /

"مذاکرات طے ہونے کے قریب تھے لیکن شاید انہیں دوسرا 9 مئی کرنے کا حکم تھا"؛ وزیراعظم

ایڈیٹر - 14/10/2026

اسلام آباد (حسبان نیوز  ): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کی سابقہ صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مل کر چلنے کی ہر ممکن اور مخلصانہ کوشش کی، تاہم سیاسی اتفاقِ رائے قائم ہونے کے عین آخری لمحات میں مذاکرات کو دانستہ طور پر سبوتاژ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کو درپیش غیر معمولی حالات کے باعث وفاق کے لیے 'اب نہیں تو کبھی نہیں' کی صورتحال پیدا ہو چکی تھی، جس کے نتیجے میں انتہائی مجبوری کے عالم میں صوبے میں آئینی اقدام اٹھاتے ہوئے گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

پارلیمانی پارٹی کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے سیاسی و سیکیورٹی صورتحال کی اندرونی کہانی سے پردہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران وفاق نے معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے۔ مذاکرات کے حتمی دور میں جب تمام تصفیہ طلب معاملات طے پانے کے قریب تھے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفد نے صوبائی قیادت سے مشاورت کا بہانہ بنا کر پیش رفت کو روک دیا۔ وزیراعظم نے سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر اپوزیشن وفد کو بالادست قیادت کی جانب سے ملک میں 'دوسرا 9 مئی' جیسے پرتشدد حالات پیدا کرنے کی ہدایات موصول ہوئی تھیں، جس کی وجہ سے بنا بنایا کھیل خراب کر دیا گیا۔

شہباز شریف نے صوبے میں سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے عفریت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت ملک دشمن عناصر اور دہشت گردوں کے خلاف ایک لفظ بھی بولنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کے ساتھ ہونے والی ماضی کی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن سابق وزیراعلیٰ نے وفاق اور ریاستی اداروں کے خلاف جس قسم کی جارحانہ زبان استعمال کی، ویسی زبان کوئی دشمن بھی استعمال نہیں کر سکتا۔

وزیراعظم نے پی ٹی آئی کی سابقہ وفاقی اور حالیہ صوبائی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے دورِ حکومت میں دہشت گردوں کو دوبارہ خیبرپختونخوا کے پرامن علاقوں خصوصاً سوات میں آباد ہونے کا موقع دیا گیا، جس سے امن و امان کی صورتحال شدید خراب ہوئی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی ملک کے ترقیاتی سفر کو روکنے پر تلی ہوئی ہے اور ان کی سیاست آج تک اسلام آباد کے 'ڈی چوک' کے احتجاجی حصار سے باہر نہیں نکل سکی۔ خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے غیور عوام اور سیاستدانوں کی لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور عزم دہرایا کہ صوبے میں مستقل امن اور ملکی خوشحالی کے لیے وفاق اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھاتا رہے گا۔